21 ستمبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران 31 برس قبل کے مقابلے میں اس وقت علاقائی عالمی سطح پر ایک بڑی دفاعی طاقت کا حامل ملک تصور کیا جاتا ہے ایک ایسا ملک جو دفاعی سازو سامان کے لحاظ سے خود کفیل ہے اور اس معاملے کسی بھی دوسرے ملک اور طاقت کا مرہون منت نہیں ہے۔

ابنا:  22 ستمبر 1980 کو جب عراق نے مشرق و مغرب کے اکسانے پر ایران کے نو خیز اسلامی انقلاب کو نابود کرنے کی ٹھانی تو کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ ایران زیادہ دیر تک استقامت کر پائے گا۔ خود صدام حسین نے سن 75 کے معاہدے الجزائرکو بھری پریس کانفرنس میں ٹی وی کیمروں کے سامنے پھاڑتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر ایران کو فتح کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ یہ جنگ خود صدام کی شکست پر منتج ہوئی اور ایران اس آٹھ سالہ غیر مساوی جنگ میں فتحمندی سے ہمکنارہوا، ملت ایران نے جو کبھی اپنی روز مرہ اشیا کے لئے امریکہ اور مغربی ملکوں کی محتاج تھے اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی اور آج اسلامی ملکوں کے لئے مثالی قوم بن گئی ہے۔ جس کو نہ امریکہ کا کوئی خوف ہے نہ غاصب صہیونی حکومت کا، چنانچہ ایرانی قیادت اور فوجی حکام کے بیانات اور مواقف کو مسلمان اقوام اور حریت پسند قوموں کی طرف سے ہمیشہ سراہا جاتا ہے۔نیٹو نے حال میں ایران کے ایک پڑوسی ملک ترکی میں جو میزائل نصب کئے ہیں ان کے بارے میں وزیر دفاع جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی طاقت کو اس بات کا موقع نہیں دے گا کہ وہ ایران کے مفادات کو خطرے میں ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ممکنہ خطرے کا بھر پور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں نیٹو کی میزائيل شیلڈ صہیونی حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہےتاہم ان کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت کے مسائل، میزائيل شیلڈ سے حل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ غاصب حکومت اندر سے اضمحلال کا شکار ہورہی ہے جس کی بڑی وجہ فلسطینی عوام کی جدوجہد اور استقامت ہے۔ جنرل احمد وحیدی نے جو آج ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے مسلح افواج کے پریڈ سے خطاب کررہے تھے کہا کہ ایران دورمار ایئر ڈیفنس میزائل بنارہا ہے اور درمیانی مار نیز کم مار کے ایئر ڈیفنس سسٹم بنانے میں خود کفیل ہوچکا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران، ایس 300 سے موسوم دفاعی میزائلی سسٹم کی عدم فراھمی کے باعث متعلقہ عالمی اداروں میں روس کے خلاف شکایت کرنے کا جائزہ لے رہا ہے۔انہوں کہا کہ روس کو ایران کے ساتھ ایس 300 میزائل سسٹم کے معاہدے کو پورا کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ روس نے بعض طاقتوں کے کہنے میں آکر ایران کو طے شدہ معاہدے کے تحت ایس 300 سے موسوم دفاعی میزائلی سسٹم دینے سے انکار کردیا ہے۔
 ..............

/169